17 مارچ 2013 - 20:30

کوئٹہ قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو لکھے گئے خط میں اپیل کی ہے کہ بلوچستان میں امن کی بحالی کو ترجیحات میں شامل کیا جائے ٗ بلوچستان کے سیاسی و معاشرتی معاملات کے جامع حل کی ضرورت ہے.

ابنا: پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ اور گوادر پورٹ کو غیرملکی کمپنی کو دینے کا فیصلہ بلوچ اسلام آباد تنازع کے اہم اسباب ہیں ٗسپریم کورٹ وفاق اور بلوچستان کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مکالمہ کرواسکتی ہے ٗ بلوچستان کو 6 دہائیوں سے تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کا احتساب کیا جائے ۔اتوار کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق سردار اختر مینگل نے کہاکہ 1971 کے بعد بلوچستان میں کبھی صاف و شفاف انتخابات نہیں ہوئے۔ سٹیبلشمنٹ نے عوامی نمائندوں کو الیکشن سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے سیاسی و معاشرتی معاملات کے جامع حل کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس صوبہ بلوچستان میں امن کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ سپریم کورٹ پہل کرتے ہوئے وفاق اور بلوچستان کے درمیان تنازع کے حل کے لئے مکالمہ کروا سکتی ہے آپ اور آپ کے رفقا جج صاحبان پہل کرکے بلوچستان میں امن کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ اختر مینگل نے کہاکہ بلوچستان کے سیاسی و معاشرتی معاملات کے جامع حل کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے واقعات، لاپتاافراد، معاشی صورتحال پر انہیں تشویش ہے، بلوچستان کوتباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کو 6 دہائیوں سے تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کا احتساب کیا جائے خواہ اس میں کوئی سردار، نواب، جنرل بیوروکریٹ اور کوئی جج بھی شامل ہو۔ انہوں نے کہاکہ مجھے انتخابات کے انعقاد سے زیادہ بلوچستان کی دگرگوں صورتحال، لاپتہ افراد کی لاشوں اور معاشی صورتحال پر تشویش ہے اور مجھے اور میری جماعت کو اقتدار سے زیادہ صوبے کی بلوچ ماوں، بہنوں اور بیٹوں کو دکھ،تکلیف اور کرب سے نجات دلانا مقصود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ اور گوادر پورٹ کو غیرملکی کمپنی کو دینے کا فیصلہ بلوچ اسلام آباد تنازع کے اہم اسباب ہیں۔

.....

/169